ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سوچھ بھارت ابھیان کی ہوانکلی،دعووں پراٹھے سوال،بی جے پی کی ریاست گوامیں ایک بھی ضلع کھلے میں قضائے حاجت سے آزاد نہیں

سوچھ بھارت ابھیان کی ہوانکلی،دعووں پراٹھے سوال،بی جے پی کی ریاست گوامیں ایک بھی ضلع کھلے میں قضائے حاجت سے آزاد نہیں

Mon, 29 Jan 2018 00:11:25    S.O. News Service

نئی دہلی، 28 جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)گوا کواکثر غیر ملکیوں کی سب سے زیادہ پسندیدہ مقامات میں سے ایک کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن تین سال پہلے بنی حکومت کے اہم منصوبے سوچھ بھارت ابھیان کے تحت اس کے کسی ضلع کو کھلے شوچ مکت ( او ڈی ایف) قرارنہیں دیاگیاہے۔اس سے سمجھاجاسکتاہے کہ سوچھ بھارت ابھیان کی ہواکیسی نکل چکی ہے اورتقریباََچاربرسوں میں بھی حالات جوں کے توں ہیں۔گرچہ لمبے چوڑے دعوے کیے جارہے ہیں۔حکام نے کہاکہ بہار اور منی پور کے ساتھ مغربی ساحلی ریاست میں ایک بھی ایسا ضلع نہیں ہے جس کو کھلے میں رفع حاجت سے پاک قراردیاگیاہو۔حیرت کی بات یہ ہے کہ گوا میں صرف دو اضلاع ہیں، جبکہ بہار میں 38 اضلاع اور منی پور میں 9 اضلاع ہیں۔پینے کے پانی اور صفائی وزارت کے سیکریٹری پرمیشورم ایرنے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بدقسمتی سے گومیں ایک بھی ضلع کھلے میں رفع حاجت سے آزاس نہیں ہے، ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ریاست کو (اس سلسلے میں) کیا دقتیں آرہی ہیں۔حکام کا خیال ہے کہ دنیا کے سب سے زیادہ مشہور سیاحتی مقام میں سے ایک ہونے کی وجہ سے ریاست کے اس چیلنج سے نمٹنے کی فوری ضرورت ہے۔عمل میں تیزی لانے اور وجوہات کاپتہ لگاکرجلد سے جلدکھلے میں رفع حاجت سے آزاد کرانے کے لئے ایر گوا گئے تھے۔وزارت میں ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ چونکہ ریاست میں صرف دواضلاع ہیں ۔ شمالی گوا اور جنوبی گوا لہذا، اب تک کھلے میں رفع حاجت سے پاک ہوجاناچاہئے۔ یہ ایک بہت چھوٹی ریاست ہے۔حکام کا خیال ہے کہ گوا ملک میں سب سے چھوٹی ریاستوں میں سے ایک ہے۔ اس کے پہاڑی علاقے اور کم پانی کی سطح کی وجہ سے مناسب پانی کی فراہمی کرنے میں مشکلات آتی ہے لہذا زیادہ تر دیہی علاقوں میں لوگوں کو کھلے میں رفع حاجت کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گوا میں زیادہ تر شہری علاقوں بالخصوص جن مقامات پر تعمیری کام چل رہے ہیں اور مہاجر مزدوروں اور خاندانوں کے رہنے کے لئے بنے بغیر ٹوائلٹ کی سہولت والے قانونی اور غیر قانونی احاطے میں اوڈی ایف ایک مسئلہ بن گیاہے۔گوا ، بہار اور منی پورکے علاوہ اڑیسہ، جموں و کشمیر، اتر پردیش، پونڈی چیری بھی او ڈی ایف فہرست کے نچلے مقام پر ہیں۔اروناچل پردیش، چھتیس گڑھ، گجرات، کیرلہ اور چنڈی گڑھ اور دمن۔دیو جیسے مرکز کی زیر انتظام ریاستیں اوڈی ایف فہرست میں سب سے اوپر ہیں اور یہ سو فیصد کوریج حاصل کرنے کے قریب ہیں۔


Share: